TheMusalman.Blogspot.Com

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو جائز نہیں یعنی امت کے کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ جب الله اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو انہیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار باقی رھے اور جس نے الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ واضح گمراہ ھے۔  (الاحزاب:آیت 37)۔

اھل و عیال پر خرچ کرنا صدقہ ھے

لفظ صَدقہ کی اصطلاح احادیث میں مختلف نیکیوں کی نسبت استعمال ھُوئی ھے۔ ان میں سے ایک نیکی مالی قربانی بھی ھے جسے جہاد بالمال کے نام سے موسوم کیا جاتا ھے۔

جہاد بالمال میں صدقہ دو طرح کا ھے۔ ایک زکواة کے مال کو صدقہ قرار دیا ھے۔ اور دوسرے زکواة کے علاوہ مالی قربانی کو بھی صدقہ قرار دیا ھے جیسا کہ خدمت اسلام کی خاطر چنداجات کی ادائیگی اور اھل وعیال پر خرچ کرنا وغیرہ سب صدقہ میں شامل ھے۔

قرآن کریم کی ایک آیت میں زکواة اور دیگر صدقات کا ایک ساتھ ذکر فرماکر اُن سب کو نیکی قرار دیا۔ جیسا کہ فرمایا؛

"نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ھے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور(اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں(اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور(غلاموں کی) گردنوں(کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰة دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی(تنگدستی) میں اور مصیبت(بیماری) میں اور جنگ کی شدّت(جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ھوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ھیں"۔

سورة البقرة، آیت 177

اس آیت میں قرابت داروں﴿اقربا﴾ کا ذکر آیا ھے جس میں اھل وعیال اور رشتہ دار شامل ھیں۔ اور اُن پر خرچ کرنے کو اسی طرح نیکی قرار دیا جس طرح زکواة کو۔ جس سے یہ بات واضح ھو جاتی ھے کہ جس طرح زکواة اللہ کے حکم کے مطابق ادا کی جاتی ھے اسی طرح اھل و عیال اور رشتہ داروں پر خرچ کرنا بھی اللہ کا حکم ھے اور نیکی میں شامل ھے۔