TheMusalman.Blogspot.Com

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو جائز نہیں یعنی امت کے کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ جب الله اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو انہیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار باقی رھے اور جس نے الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ واضح گمراہ ھے۔  (الاحزاب:آیت 37)۔

مال و عزت کی حرص


مال و عزت کی حِرص

یعنی انسان یہ خواہش کرے کہ میں فلاں شخص کی طرح مالدار اور دولت مند بن جائوں یا فلاں شخص کی طرح شھرت و عزت اور نیک نامی دنیا میں حاصل کرلُوں تو یہ تمنا انسان کے دین کے واسطے خرابی کا باعث ھے۔ کیونکہ دین تو انسان کو یہ سکھاتا ھے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ھے اور وہی جس کے لئے جتنا چاہتا ھے رزق عطا کرتا ھے۔ کسی کو امیر ودولت مند بناکر آزمائش میں ڈالتا ھے تو کسی کو غریب بناکر امتحان لیتا ھے یہ اُسی کی مرضی ھے۔ لہٰذا جس حال میں خدا بندے کو رکھے، بندے کو اُسی پر شکر اور راضی رہنا چاھیے۔ زیادہ مال و دولت کی تمنا نہیں کرنی چاہیئے۔ 

اور جہاں تک عزت کا معاملہ ھے تو حدیث سے ثابت ھے کہ کئی لو گ جو دنیا میں عزت دار اور نیک مشہور ہیں وہ قیامت کے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ کیونکہ انکی نیت ہی دنیا میں عزت و شہرت اور نیک نامی حاصل کرنے کی تھی سو خدا نے دیدی۔ لیکن قیامت کے دن انکا مقام جہنم ہوگا۔ اسلئے محض دنیا کی عزت اور دنیا کی شہرت اور دنیا کی نیک نامی کسی کے اچھے ہونے کا معیار نہیں ھے۔ (تفصیل کے لئے دیکھو؛http://themusalman.blogspot.com/2013/12/blog-post.html