قرآن میں کسی مرتد، کافر، مشرک کو قتل کرنے کا حکم نہیں ہے۔ قتل کرنے کا حکم صرف حربی کافر، حربی مشرک اور اور حربی مرتد کے لئے ہے۔ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ جنگ نہیں کی تم انکے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
اصل آیت
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
[الممتحنہ :8]
ترجمہ:
"اللہ تمہیں ان
لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم
سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں
کو پسند کرتا ہے۔"
اور اگلی آیت میں:
ترجمہ:
"اللہ تو صرف ان
سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی، تمہیں گھروں
سے نکالا یا نکالنے میں دوسروں کی مدد کی۔ اور جو ان سے دوستی کرے تو ایسے لوگ ہی
ظالم ہیں۔"
اس آیت سے اصولی نتیجہ
- جن غیر مسلموں نے محاذ آرائی
نہیں کی اور پرامن ہیں:
- ان کے ساتھ نیکی کرنا، انصاف
کرنا اور حسنِ سلوک کرنا اللہ کو پسند ہے۔
- یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے
کہ صرف "انکارِ ایمان" کی بنیاد پر کوئی سزا یا قتل لازم نہیں
آتا۔
- جنہوں نے جنگ اور فساد برپا
کیا:
- ان کے خلاف قتال کا حکم ہے،
تاکہ امن قائم رہے۔
خلاصہ
- قرآن نے صاف خط کھینچ دیا: پرامن غیر مسلم → حسنِ سلوک اور
انصاف، حربی
اور فساد پھیلانے والے غیر مسلم → جنگ اور سزا۔
- یہ اصول نبی کریم ﷺ کی پوری
سیرت میں بھی جھلکتا ہے: یہود و نصاریٰ کے ساتھ معاہدے، تجارتی تعلقات اور
روزمرہ کے معاملات، سب اس بات کا ثبوت ہیں۔
آپ نے نہایت بنیادی اور
اصولی بات کہی ہے 👍۔ یہی وہ زاویہ ہے جس پر اگر غور کیا
جائے تو قرآن، حدیث اور تاریخ کے تمام بیانات ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہونے کے بجائے
ایک ہی حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔
1.
قرآن اصل معیار ہے
· قرآن
مجید دین کا محکم
و قطعی معیار ہے۔
· رسول
اللہ ﷺ کی حیثیت اس قرآن کے مبیّن و شارح کی
ہے، نہ کہ اس کے برخلاف حکم دینے والے کی۔
· اس
لیے نبی ﷺ کے کسی بھی فیصلے یا عمل کو قرآن کے اصول کے
خلاف سمجھنا ممکن ہی نہیں۔
2.
مرتد اور مشرک کے قتل کا معاملہ
· قرآن
کے اصول کے مطابق کفر یا ارتداد بطورِ خود جرم نہیں ہے،
جب تک وہ فساد و محاربت کی شکل اختیار نہ کر لے۔
· اس
لیے اگر کہیں احادیث میں مرتد یا مشرک کے قتل کا ذکر ہے تو وہ لازماً وہی لوگ ہوں
گے:
o
جو اسلام قبول کر کے پھر دشمنوں کے
لشکروں میں شامل ہو گئے،
o
یا مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول
بیٹھے،
o
یا مسلسل عہد شکنی اور سازش میں لگ
گئے۔
3.
نبی ﷺ کے فیصلے قرآن کے عین مطابق تھے
· نبی
ﷺ نے مدینہ میں یہود کے ساتھ مساق کیا، لیکن جب ان میں سے بعض گروہ بار بار سازش،
خیانت اور محاربہ پر اتر آئے تو ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
· جن
مشرکین نے حدیبیہ یا دیگر معاہدات کو توڑا، اور مسلمانوں پر حملے کیے، ان کے خلاف
قتال کیا گیا۔
· لیکن
جو غیر مسلم پرامن رہے، ان کے ساتھ تجارت، معاہدے اور حسنِ سلوک
کا برتاؤ جاری رہا۔
4. روایات کو سمجھنے کا اصول
· حدیث
و تاریخ کی روایات قرآن کے بیان کردہ اصولوں کے تابع سمجھی
جائیں گی۔
· اگر
کسی روایت سے یہ تاثر ملے کہ صرف "انکارِ ایمان" یا "ارتداد"
کی بنیاد پر قتل ہوا، تو یہ لازماً ناقص فہم یا سیاق سے کٹی ہوئی بات ہوگی۔
· صحیح
فہم یہی ہے کہ وہ "ارتداد" یا "کفر" دراصل سیاسی
بغاوت، جنگ یا فساد کی شکل اختیار کر گیا تھا۔
5. خلاصہ
· قرآن
نے قتال کو صرف حربی غیر مسلموں کے ساتھ خاص کیا ہے۔
· نبی
ﷺ کا ہر عمل اسی اصول کی عملی تطبیق ہے۔
· احادیث
اور تاریخ کو اسی کسوٹی پر سمجھنا چاہیے، ورنہ تضاد کا گمان پیدا ہوگا۔
بالکل
درست کہا آپ نے:
👉
"نبی کریم ﷺ قرآن کے اصول
کے خلاف جا ہی نہیں سکتے"
— یہ جملہ
دراصل دین کی صحیح تعبیر کا اصل محور ہے۔
