TheMusalman.Blogspot.Com

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو جائز نہیں یعنی امت کے کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ جب الله اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو انہیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار باقی رھے اور جس نے الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ واضح گمراہ ھے۔  (الاحزاب:آیت 37)۔

رشتہ داروں پر مال خرچ کرنا، اللہ کی راہ میں خرچ ھے

اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمادیا کہ رشتہ داروں پر اپنا مال خرچ کرنا دراصل اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہی ھے۔

حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛ مسکین کو صدقہ دینے پر ایک اجر ھے۔ اور رشتہ دار کو صدقہ دینے پر دو اجر ملتے ھیں۔ ایک تو صدقہ کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کرنے کا۔
سنن نسائی کتاب الزکواة، باب الصدقہ علی الاقارب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛ جب کوئی مسلمان اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ھے اور وہ اس سے اللہ کی رضا کی امید رکھتا ھے تو وہ اسکی طرف سے صدقہ ھے۔
صحیح مسلم ۔ کتاب الزکواة باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين والزوج والأولاد والوالدين ولو كانوا مشركين

حقیقت یہ ھے کہ رشتہ داروں میں جو بھی غریب محتاج ھے وہ زیادہ مستحق ھے کہ اس پر پہلے خرچ کیا جائے، اسکی ضرورت کا خیال رکھا جائے۔ حتٰی کہ اگر خاوند غریب ھو اور اسکی بیوی مالدار ھو تو بیوی کا اپنے غریب خاوند کی ضرورتوں پر خرچ کرنا بھی صدقے میں شامل ھے۔ اسی طرح والدین کا اپنی اولاد کی ضرورتوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ھے۔ اور بہن بھائیوں کا بھی ایک دوسرے کی ضرورتوں پر خرچ کرنا صدقہ ھے۔

الغرض ہر ایک غریب اور محتاج رشتہ دار کی ضرورت کا خیال رکھنا اور اس پر خرچ کرنا صدقے میں شامل ھے اور دوگنا اجر کا باعث ھے۔