حقیقت یہ ھے کہ رشتہ داروں میں جو بھی غریب محتاج ھے وہ زیادہ مستحق ھے کہ اس پر خرچ کیا جائے، اسکی ضرورت کا خیال رکھا جائے۔ حتٰی کہ اگر خاوند غریب ھو اور اسکی بیوی مالدار ھو تو بیوی کا اپنے غریب خاوند کی ضرورتوں پر خرچ کرنا بھی صدقے میں شامل ھے۔ اسی طرح والدین کا اپنی اولاد کی ضرورتوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ھے۔ اور بہن بھائیوں کا بھی ایک دوسرے کی ضرورتوں پر خرچ کرنا صدقہ ھے۔
الغرض ہر ایک غریب اور محتاج رشتہ دار کی ضرورت کا خیال رکھنا اور اس پر خرچ کرنا صدقے میں شامل ھے اور دوگنا اجر کا باعث ھے۔
الغرض ہر ایک غریب اور محتاج رشتہ دار کی ضرورت کا خیال رکھنا اور اس پر خرچ کرنا صدقے میں شامل ھے اور دوگنا اجر کا باعث ھے۔

