اس حدیث کا مطلب یہ ھے کہ جہاد خواہ وہ جنگی جہاد ھو، یا مالی جہاد ھو، اگر اس نیت سے کیا جائے کہ مذید مال و دولت مل جائے تو اسے ضرور مال ملے گا لیکن وہ بُری نیت کے باعث آخرت کے ثواب سے محروم ھوجائے گا۔ یہ دراصل وہی مضمون ھے جو قرآن میں بیان ہوا ھے کہ
جو دنیا چاہتے ھیں ھم انہیں دنیا دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں انکا کوئی حصہ نہیں ھوگا۔ شورٰی ۲١
جو دنیا چاہتے ھیں ھم انہیں دنیا دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں انکا کوئی حصہ نہیں ھوگا۔ شورٰی ۲١

