TheMusalman.Blogspot.Com

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو جائز نہیں یعنی امت کے کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ جب الله اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو انہیں اپنی مرضی کرنے کا اختیار باقی رھے اور جس نے الله اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ واضح گمراہ ھے۔  (الاحزاب:آیت 37)۔

عورت کا صدقہ دینا

جس طرح نفلی روزہ بغیر خاوند کی اجازت کے رکھنا بیوی کے لئے جائز نہیں ہوتا اسی طرح ہر نفلی صدقہ جو زکواة کے علاوہ ہوتا ھے وہ بھی خاوند کی اجازت کے بغیر کسی کو دینا جائز نہیں ھے۔

اگر خاوند نہ ھو اور عورت مالدار ھو تو تب وہ صدقہ کرنے میں آزاد ھوتی ھے۔ لیکن اگر خاوند موجود ھو تب خاوند کی مرضی چلے گی۔ خاوند فیصلہ کریگا کہ کس کو صدقہ دینا ھے اور کس کو نہیں۔ جیسے کہ نیچے حدیث سے بھی ثابت ھے کہ جب ایک عورت نے اپنا زیور صدقہ کے طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہا تو اسکے خاوند نے حکم دیا کہ وہ اور اسکی اولاد اسکے صدقہ کے زیادہ مستحق ھیں؛

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عید الضحیٰ یا عید الفطر کے موقع پر عید گاہ تشریف لے گئے۔ پھر لوگوں کو نصیحت کرنے کے لئے متوجہ ہوئے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا؛ اے لوگو صدقہ دو۔ پھر آپ عورتوں کی طرف گئے اور ان سے بھی فرمایا، عورتو صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری ہی دیکھی ھے۔ عورتوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اس لئے کہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کے حسن معاملات کا انکار کرتی ہو۔ اے عورتو میں نے تم سے زیادہ عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص کوئی مخلوق نہیں دیکھی۔ جو ہوشیار مرد کی عقل کو اپنی مٹھی میں لیتی ھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر پہنچے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت لی اور کہا گیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ زینب ھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ زینبوں میں سے کونسی زینب ھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا؛ ابن مسعود کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اچھا اسے اجازت دو۔ چنانچہ انہیں اجازت دی گئی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے کہا؛ اے اللہ کے نبی۔ آپ نے آج صدقہ کرنے کا حکم دیا ھے۔ میرے پاس میرا یہی زیور ھے۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ یہی صدقہ میں دے دوں۔ لیکن ابن مسعود کا کہنا ھے کہ وہ اور انکے بیٹے زیادہ حقدار ہیں جن پر مجھے صدقہ کرنا چاہئیے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ کہ ابن مسعود نے صحیح کہا ھے۔ تمہارا خاوند اور تمہارے بیٹے صدقہ کے زیادہ مستحق ہیں۔

بخاری کتاب الزکواة، زکواة علی الاقارب
نوٹ؛ یہ حدیث اگرچہ کہ زکاة کے باب میں درج ھے مگر اس میں صدقہ سے مراد زکاہ نہیں بلکہ نفلی صدقہ ہی مراد ھے۔