اللہ کی
آخری دینی شریعت قرآن پاک کی شکل میں موجود ھے۔ اور قرآنی ہدایت کی عملی شکل رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کی سنت میں موجود ھے۔ اللہ کا یہ دین 'مکمل' ھے۔ اسی آخری شریعت کا علم انسان کو
عالم بناتا ھے۔ اگر عالم کی نیت نیک ہو اور ارادے پاک ھوں۔ اور محض اللہ کی رضا
مقصود ھو۔ تو وہ عالِم بلاشبہ 'غیر عالم عابدوں' پر فضیلت رکھتا ھے۔
لیکن اگرنیت نیک نہ ہو اور ارادے یہ ھوں کہ علم سیکھ کر جاہلوں کی تحقیر کی جائے اور لوگوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کی جائے، دکھاوا اور ریاء مقصود ھو یا فتنہ پھیلانے کی خاطر علم سیکھا جائے تو ایسا عالم 'شریرعلماء' میں سے ھے۔ شریر علماء کا وجود ھر زمانہ میں موجود رہتا ھے۔ اور انکی باتوں بھی وہی لوگ آتے ھیں جو علم دین نہیں سیکھتے بلکہ صرف اپنے علماء پر بھروسہ کرتے اور انہی کی اندھی اطاعت کرتے ھیں۔
لیکن اگرنیت نیک نہ ہو اور ارادے یہ ھوں کہ علم سیکھ کر جاہلوں کی تحقیر کی جائے اور لوگوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کی جائے، دکھاوا اور ریاء مقصود ھو یا فتنہ پھیلانے کی خاطر علم سیکھا جائے تو ایسا عالم 'شریرعلماء' میں سے ھے۔ شریر علماء کا وجود ھر زمانہ میں موجود رہتا ھے۔ اور انکی باتوں بھی وہی لوگ آتے ھیں جو علم دین نہیں سیکھتے بلکہ صرف اپنے علماء پر بھروسہ کرتے اور انہی کی اندھی اطاعت کرتے ھیں۔


